مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز کے درمیان ملاقات

اسلام آباد (اردولائیو تازہ ترین۔ 06 فروری2021ء) پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان اورمسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے آرڈیننس سے سینیٹ الیکشن شو آف ہینڈ سے کرانے کے اقدام کی شدید مخالفت کا فیصلہ کیا ہے، مریم نواز نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں پتا چل جائے گا کون کس کے ساتھ کھڑا ہے، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سینیٹ الیکشن شوآف ہینڈ کی مخالفت میں عدالت بھی جانا پڑا تو جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نوازنے صدر پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی ہے، جس میں سیاسی صورتحال اور سینیٹ الیکشن سے متعلق بات چیت کی گئی۔ دونوں قائدین نے پی ڈی ایم میں ہونے والے فیصلوں اور لانگ مارچ کی تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں آرڈیننس سے سینیٹ الیکشن شو آف ہینڈ سے کرانےکے اقدام کی شدید مخالفت کا فیصلہ کیا گیا۔

آئینی ترمیم کے بغیر سینیٹ الیکشن کا طریقہ کار تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ مریم نواز نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کا آپشن مسترد نہیں کیا گیا۔ سینیٹ الیکشن میں پتا چل جائے گا کون کس کے ساتھ کھڑا ہے،سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سینیٹ الیکشن شوآف ہینڈ کی مخالفت میں عدالت بھی جانا پڑا تو جائیں گے۔دوسری جانب حکومتی کی جانب سے سینیٹ انتخابات سے متعلق آرڈیننس کے اجرا ء کی تیاریوں پر پیپلزپارٹی نے تشویش کا اظہار کردیا ہے، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء نیئر بخاری نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت پارلیمان میں ناکامی کے بعد آرڈیننس جاری کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرڈیننس کے ذریعے آئین کی شقوں کو مسترد یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ اوپن بیلٹ سے متعلق آرڈیننس غیر آئینی اور غیر قانونی ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اوپن بیلٹ سے متعلق آرڈیننس کا اجرا پارلیمان کو بے توقیر کرنے کے مترادف ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی خواہشات اور من پسند فیصلے آرڈیننس کے ذریعے پوری کرنا چاہتی ہیں۔نیئر بخاری نے کہا کہ سینیٹ انتخابات سے متعلق آرڈیننس کی تیاریاں قابل مذمت عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو آرڈیننس کے ذریعے ملک اور پارلیمان کو چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں