صدر مملکت نے الیکشن ترمیمی آرڈیننس2021 پر دستخط کردیے

اسلام آباد (اردو اخبار تازہ ترین۔ 06 فروری2021ء) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے الیکشن ترمیمی آرڈیننس2021 کے مسودے پر دستخط کردیے، آرڈیننس کے ذریعے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے ہوسکیں گے،آرڈیننس کا اطلاق سپریم کورٹ کی رائے سے مشروط کیا گیا ہے، آرڈیننس فوری طور پر نافذالعمل ہوگا۔ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے کا دستخط شدہ صدارتی آرڈیننس شیئر کیا ہے۔

الیکشن ترمیمی آرڈیننس کے لیے 2017ء کے الیکشن ایکٹ 33 کی شق81 میں ترمیم کی گئی ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 122 اور 185میں بھی ترمیم کی گئی۔ آرڈیننس کے تحت پارٹی سربراہ رکن اسمبلی کوووٹ دکھانے کی درخواست کرسکے گا، جبکہ الیکشن کمیشن بھی پارٹی سربراہ کی درخواست پر کسی بھی رکن کا ووٹ دکھانے کا پابند ہوگا۔

اس سے قبل وفاقی حکومت نے کابینہ سے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے مسودے کی منظوری لی تھی۔

نئے آرڈیننس کی ڈرافٹنگ اٹارنی جنرل نے کی۔ واضح رہے سینیٹ انتخابات سے متعلق کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ سینیٹ انتخابات شو آف ہینڈ سے کرانے کیلئے وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ صدر مملکت عارف علوی نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ اور شو آف ہینڈز کے ذریعے کروانے کے معاملے پر سپریم کورٹ سے بھی رائے طلب کی ہے۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کی وزیر اعظم کی تجویز کی منظوری دیتے ہوئے ریفرنس پر دستخط کر دیے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر نے وزیر اعظم کی تجویز پر سینیٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ یا شو آف ہینڈز کے ذریعے کرانے کے عوامی اہمیت کے معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے مانگی ہے بیان کے مطابق سپریم کورٹ کو ارسال کردہ ریفرنس میں آئین میں ترمیم کیے بغیر الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 122 (6) میں ترمیم کرنے پر عدالت عظمیٰ کی رائے مانگی گئی ہے. خیال رہے کہ 15 دسمبر کو وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات فروری میں کروانے اور اوپن بیلٹ کے معاملے پر سپریم کورٹ کا مشاورتی دائرہ کار لاگو کرنے کا فیصلہ کیا تھا یہ انتخابات ایوان بالا کی 52 نشستوں پر ہوں گے کیوں کہ 104 اراکین سینیٹ 11 مارچ کو ریٹائر ہوں گے. کابینہ اجلاس کے دوران آئین کی دفعہ 186 کے تحت سپریم کورٹ کی رائے حاصل کرنے کی تجویز اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے دی تھی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن کے شیڈول کردہ انتخابات کے انعقاد سے قبل ایک آرڈیننس کے ذریعے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 112(6) میں ترمیم کردی جائے تو سینیٹ انتخابات خفیہ بیلیٹ کے بجائے کھلے عام رائے شماری کے ذریعے کیے جاسکیں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں